حریمِ جاں میں نئے التفات کا کاجل
لگا رہا ہے مجھے حادثات کا کاجل
کسی کی آنچ پہ رکھ کر جلا دیا دل کو
دھواں چھپا رہا ہے واردات کا کاجل
نظر اتاری ہے اس کی خود اپنے ہاتھوں سے
چُرایا آنکھ سے تھوڑا سا رات کا کاجل
اسی کو سونپا ہے جس کے لیے مہکتا ہے
گلاب رات میں خوشبو صفات کا کاجل
پگھل رہا ہے کوئی ساتھ میرے صحرا میں
سلگ رہا ہے کہیں میری ذات کا کاجل
نظر ملاتا نہیں جب گلی میں ملتا ہے
کہ جیسے مانگ لیا واجبات کا کاجل
خود اپنے سوز میں رہتی ہے آج کل نیلم
لگا کے آنکھ میں اک کائنات کا کاجل
نیلم بھٹی
No comments:
Post a Comment