صفحات

Sunday, 10 January 2021

یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

 یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ

عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح

خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ

جانے کس امید پر ہوں آبیاری میں مگن

ایک پتہ بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ

میں ابھی تک رزق چننے میں یہاں مصروف ہوں

لوٹ جاتے ہیں پرندے شام کی سرخی کے ساتھ

پھینک دے باہر کی جانب اپنے اندر کی گھٹن

اپنی آنکھوں کو لگا دے گھر کی ہر کھڑکی کے ساتھ

جان جا سکتی ہے خوشبو کے تعاقب میں نوید

سانپ بھی ہوتا ہے اکثر رات کی رانی کے ساتھ


اقبال نوید

No comments:

Post a Comment