صفحات

Sunday, 10 January 2021

جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں

 جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں

پھر کسی مسافر سے روشنی ذرا مانگیں

کھو گئے کتابوں میں تتلیوں کے بال و پر

سوچ میں ہیں اب بچے کیا چھپائیں کیا مانگیں

زعفرانی کھیتوں میں اب مکان اُگتے ہیں

کس طرح زمینوں سے دل کا رابطہ مانگیں

اس سے پیشتر کہ یہ رات موند لے آنکھیں

ننھے منے جگنو سے روشنی ذرا مانگیں

کس کے سامنے رکھیے کھول کر رضا اپنی

اور کس سے جادو کا بولتا دِیا مانگیں


احمد شناس

No comments:

Post a Comment