صفحات

Sunday, 3 January 2021

سن اے بہار یہ دستک تری لہو ہو گی

 سن، اے  بہار! یہ دستک تِری لہو ہو گی

نہ گھر پہ کوئی اگر ہو تو کھٹکھٹاتے نہیں

طبیب میرا یہ کہتا ہے میں  ہوا بدلوں 

کوئی بتائے کہ بدلاؤ راس آتے نہیں 

تم اپنے دل کا یہ پنجرہ بھی چاہے کھول رکھو

ہم ایسے پنچھی کبھی پر کو بھی ہلاتے نہیں 

میں جاگ جاتی ہوں پر  آنکھ کھل نہیں پاتی 

مگر یہ بات مِرے دوست کیوں بتاتے نہیں 

عجب نہیں ہے یہ دلشاد غمزدہ گھر میں 

چراغ جلتے نہیں، یا انہیں جلاتے نہیں


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment