صفحات

Saturday, 16 January 2021

تیرے خیال میں کچھ ایسے گم رہا برسوں

 تیرے خیال میں کچھ ایسے گم رہا برسوں

میں اپنے آپ سے بھی مل نہیں سکا برسوں

کہیں وہ ذائقہ تحلیل ہی نہ ہو جائے

میں اس سے مِل کے کسی سے نہیں مِلا برسوں

کہا تھا تم نے کہ؛ تم لوٹ آؤ گے اک دن

سو میں جہاں تھا وہیں پر کھڑا رہا برسوں

تمہارے بعد میری عمر رائیگاں گزری

کوئی بھی کام نہیں ٹھیک سے ہوا برسوں

تمہارے ہاتھ کی دستک کی آس میں مظہر

میں اپنے گھر سے کہیں بھی نہیں گیا برسوں


مظہر نیازی

No comments:

Post a Comment