خواب میں تجھ سے ملاقات کیا کرتے ہیں
آنکھ کھلتی ہے تو خیرات کیا کرتے ہیں
ہم تجھے کیسے بتائیں کہ تِرے بارے میں
لوگ جو ہم سے سوالات کیا کرتے ہیں
ہمہ تن گوش نہیں دل سے سنی جاتی ہے
لوگ جب ان کی کوئی بات کیا کرتے ہیں
خواہش و خواب پہ پابندی نہیں ہے لیکن
آخری فیصلہ حالات کیا کرتے ہیں
میں صغیر ان سے شکایت نہیں کرتا کوئی
دوست بن کر جو مِرے، ہاتھ کیا کرتے ہیں
صغیر احمد صغیر
صغیر احمد احسنی
No comments:
Post a Comment