صفحات

Thursday, 14 January 2021

ساری دنیا سے ماورا ہو جاؤں

 ساری دنیا سے ماورأ ہو جاؤں

میں اگر جسم سے رہا ہو جاؤں

میرے اپنے کئی مسائل ہیں

کیا پڑی ہے کہ میں خدا ہو جاؤں

زندگی! اتنی بھی سزا مت دے

میں تِرے سامنے کھڑا ہو جاؤں

اک ذرا کُن کا لفظ کہہ کر دیکھ

کہہ دیا ہے تو بول کیا ہو جاؤں؟

عین ممکن ہے رقص کرتے ہوئے

میں تِرے سامنے ہوا ہو جاؤں


یونس متین

No comments:

Post a Comment