صفحات

Friday, 15 January 2021

اے ہوائے خوش خبر اب نوید سنگ دے

 انہدام


اے ہوائے خوش خبر، اب نویدِ سنگ دے

میری جیب و آستیں میرے خوں سے رنگ دے

میری عمرِ کج روش مجھ سے کہہ رہی ہے، تُو

اک طلسم ہے، تجھے ٹوٹنا ضرور ہے

تیری بد سرشت فکر، تیرا قیمتی لہو

کھُردری زبان سے چاٹتی چلی گئی

تُو کنارِ بحر کی وہ چٹان ہے، جسے

تند و تیز موجِ درد، کاٹتی چلی گئی

اِس حریص جسم کا انہدام ہی سہی

ایک خون کی لکیر تیرے نام ہی سہی


ساقی فاروقی

No comments:

Post a Comment