صفحات

Thursday, 14 January 2021

موسم کو اشاروں سے بلا کیوں نہیں لیتے

 موسم کو اشاروں سے بلا کیوں نہیں لیتے

روٹھا ہے اگر وہ تو منا کیوں نہیں لیتے

تم جاگ رہے ہو مجھے اچھا نہیں لگتا

چپکے سے میری نیند چرا کیوں نہیں لیتے

دیوانہ تمہارا ہوں، کوئی غیر نہیں ہے

مچلا ہوں تو سینے سے لگا کیوں نہیں لیتے

خط لکھ کر کبھی اور کبھی خط کو جلا کر

تنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتے


نامعلوم


آج یوٹیوب پہ یہ غزل سنی سوچا آپ سے شیئر کر دوں، 

کسی دوست کو اگر شاعر کا نام معلوم ہو تو بتا دیجئے گا۔

No comments:

Post a Comment