موسم کو اشاروں سے بلا کیوں نہیں لیتے
روٹھا ہے اگر وہ تو منا کیوں نہیں لیتے
تم جاگ رہے ہو مجھے اچھا نہیں لگتا
چپکے سے میری نیند چرا کیوں نہیں لیتے
دیوانہ تمہارا ہوں، کوئی غیر نہیں ہے
مچلا ہوں تو سینے سے لگا کیوں نہیں لیتے
خط لکھ کر کبھی اور کبھی خط کو جلا کر
تنہائی کو رنگین بنا کیوں نہیں لیتے
نامعلوم
آج یوٹیوب پہ یہ غزل سنی سوچا آپ سے شیئر کر دوں،
کسی دوست کو اگر شاعر کا نام معلوم ہو تو بتا دیجئے گا۔
No comments:
Post a Comment