صفحات

Sunday, 3 January 2021

کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی

 کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی

جہاں سچ بولنے کی جب اجازت ہی نہیں ہوتی

جہاں ظالم سدا آزاد رہتے ہوں عدالت سے

وہاں مظلوم ملزم کی ضمانت ہی نہیں ہوتی

جہاں انسان رہتے ہوں مگر قانون جنگل کا

وہاں انصاف کی کوئی روایت ہی نہیں ہوتی

رواجوں کی الگ بستی بسانے کی روایت میں

غریبوں پر کسی کی کچھ عنایت ہی نہیں ہوتی

درندے دندناتے ہیں ابھی ہر ایک بستی میں

یہاں اب نام کی بھی کچھ شرافت ہی نہیں ہوتی

جہاں عصمت نہ محفوظ عورت کی وہاں آغا

کبھی معصوم بچوں کی حفاظت ہی نہیں ہوتی


آغا نیاز مگسی

No comments:

Post a Comment