صفحات

Thursday, 14 January 2021

قید عمر رواں کی سلاخوں کو تھامے ہوئے

 میرے استاد


قید عمر رواں 

کی سلاخوں کو تھامے ہوئے 

جب کبھی جھانکتا ہوں 

میں ماضی کی کھڑکی سے اب 

یاد آتی ہیں مجھ کو 

وہ پگڈنڈیاں 

جن پہ بھاگا تھا بچپن 

کھلے پاؤں 

دھوپ سے کھلتی برگدی چھاؤں 

اور مہکتی چہکتی ہوئی دھول 

میری انگلی پکڑ کر 

مجھے لے کے جاتی تھی سکول 

وہ ادارہ 

جہاں شرط تھی علم و فن کی تراش 

ایسا مندر 

جہاں ہو گئیں سب بُری عادتیں پاش پاش 

درس دیتے ہوئے کچھ خدا 

جن سے حاصل ہوا مجھ کو انسانیت کا سبق 

جن کے سایہ میں آیا مجھے 

زندگی کا شعور 

جن کے لفظوں کا نور 

آج بھی ہے میری ظلمت روز و شب 

کا اجالا 

بحق

جن کی باتیں مصیبت میں رہ رہ کے آتی ہیں یاد 

میرے استاد


عباس قمر

No comments:

Post a Comment