سوچتی ہوں اکثر
سوچتی ہوں اکثر یہ ہی بات
کیا مِری کتب کا ہو گا؟
مِرے مَر جانے کے بعد
کون اس گھر کی نگہبانی کرے گا
پیار بھی دے گا میری چیزوں کو
میرے چہلم کے بعد ہی میری اکلوتی نند
بھائی سے کرنے لگے گی اصرار
اور ادھیڑ عمری میں
واسطہ دے گی جوانی کا اسے
کہ بسا لے پھر گھر
اور چہرے پہ کئے طاری سعادت مندی
سر تسلیم وہ خم کر دے گا
پھر مگر کیا ہو گا؟
میرے بچے جو ہیں اس وقت دُلارے سب کے
ان کے حصے میں بھی آئے گا دوبارہ شفقت
آج کل سوچتی رہتی ہوں یہ باتیں اکثر
ترنم ریاض
No comments:
Post a Comment