صفحات

Saturday, 2 January 2021

چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں

 چہروں کو بے نقاب سمجھنے لگا تھا میں

سب کو کھلی کتاب سمجھنے لگا تھا میں

جلنا ہی چاہیے تھا مجھے، اور جل گیا

انگاروں کو گلاب سمجھنے لگا تھا میں

یہ کیا ہوا کہ نیند ہی آنکھوں سے اُڑ گئی

کچھ کچھ زبان خواب سمجھنے لگا تھا میں

اپنی ہی روشنی سے نظر کھا گئی فریب

ذروں کو آفتاب سمجھنے لگا تھا میں

بنیاد اپنے گھر کی فضاؤں میں ڈال دی

بستی کو زیر آب سمجھنے لگا تھا میں

مجھ سے ہی ہو گئی ہے سوالِ وفا کی بھول

دنیا کو لا جواب سمجھنے لگا تھا میں


ہوش جونپوری

( اصغر مہدی ہوش)

No comments:

Post a Comment