صفحات

Wednesday, 13 January 2021

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں

 اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں

کوئی صورت پس تصویر نہیں چاہتا میں

چاہتا ہوں کہ رفاقت کا بھرم رہ جائے

عہد و پیمان کی تفسیر نہیں چاہتا میں

حکم صادر ہے تو نافذ بھی کرو میرے حضور

فیصلے میں کوئی تاخیر نہیں چاہتا میں

چاہتا ہوں تجھے گفتار سے قائل کر لوں

بات میں لہجۂ شمشیر نہیں چاہتا میں

مدعا ہے کہ مِرا حق مجھے واپس مل جائے

تیرے اجداد کی جاگیر نہیں چاہتا میں


احمد اشفاق

No comments:

Post a Comment