بکھر گیا ہوں ابھی کائنات میں گم ہوں
یہ سب فریب ہے خود اپنی ذات میں گم ہوں
اگر تُو ایک ہے، کیوں اتنے نام ہیں تیرے
میں سادہ لوح، ہجومِ صفات میں گم ہوں
تُو ہی بتا دے کہ اس میں قصور کس کا ہے
تُو خود میں گم ہے، میں لات و منات میں گم ہوں
جُدا ہوں تجھ سے، مگر تیرے لفظِ کُن کے طفیل
ہزار گم ہوں، مگر تیری بات میں گم ہوں
مِری تلاش عبث ہے کہ لمحہ لمحہ میں
بدل رہا ہوں کہ سیلِ حیات میں گم ہوں
ریاضِ شعر میں رنگِ بہار ہے مجھ سے
میں پھول پھول میں اور پات پات میں گم ہوں
پڑھوں جو میر تو یہ بھی نہ کھُل سکے جاوید
میں کائنات میں یا کلّیات میں گم ہوں
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment