صفحات

Friday, 5 February 2021

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

 کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

بہانے سے خدا نے مار ڈالا 

جفا کی جان کو سب رو رہے ہیں 

مجھے ان کی وفا نے مار ڈالا 

جدائی میں نہ آنا تھا نہ آئی 

مجھے ظالم قضا نے مار ڈالا

مصیبت، اور لمبی زندگانی 

بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا 

انہیں آنکھوں سے جینا چاہتا ہوں 

جن آنکھوں کی حیا نے مار ڈالا 

ہمارا امتحاں اور کوئے دشمن 

کسی نے بے ٹھکانے مار ڈالا 

پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطر

کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا 


مضطر خیر آبادی​

No comments:

Post a Comment