اندھیرا اتنا، نہ کچھ دِکھائی دے
شور اتنا، نہ کچھ سُنائی دے
تالے ہیں خلق کی زبانوں پر
میرے خالق! مجھے گویائی دے
آب دانہ نہیں گر پاس تِرے
اے صیاد! مجھے رہائی دے
چور ڈاکو ہیں سارے مسند پر
اور نہ مُصنف کو کچھ دِکھائی دے
اتنی مہنگائی بڑھ گئی لوگو
حاکمِ وقت خُود دُہائی دے
آصف ریحان عابد
No comments:
Post a Comment