صفحات

Saturday, 27 March 2021

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

 تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

سر پہ سورج تھا مِرے پر سائباں ملتا نہ تھا

بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو

ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا

منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے

کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا

گھونسلے خالی پڑے ہیں اور وہیں پر آس پاس

کچھ پرندے تھے کہ جن کو آشیاں ملتا نہ تھا

گردشِ دوراں مجھے پھر اب وہیں لے آئی ہے

شہر جو میرا تھا، لیکن ہم زباں ملتا نہ تھا


اشرف شاد

No comments:

Post a Comment