صفحات

Saturday, 27 March 2021

بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی

 نذر پروین شاکر


بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی

جس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

یاد جب اس کی چلی آئی مِری راہوں میں

لاج رکھ لی ہے اسی نے میری تنہائی کی

ایسے اُجڑا ہے تِرے بعد مِرے دل کا جہاں

اچھی لگتی نہیں آواز بھی شہنائی کی

دوڑ جاتی ہے لہر سی میرے دل کے اندر

یاد جب آتی ہے اس شوخ کی انگڑائی کی

خونِِ دل اپنا پلایا جو غزل کو میں نے

تب کہیں جا کے زمانے نے پذیرائی کی


منیر ارمان نسیمی

No comments:

Post a Comment