صفحات

Monday, 1 March 2021

جبین شوق پہ گرد ملال چاہتی ہے

 جبینِ شوق پہ گردِ ملال چاہتی ہے 

مِری حیات سفر کا مآل چاہتی ہے 

میں وسعتوں کا طلبگار اپنے عشق میں ہوں 

وہ میری ذات میں اک یرغمال چاہتی ہے 

ہمیں خبر ہے کہ اس مہرباں کی چارہ گری 

ہمارے زخموں کا کب اندمال چاہتی ہے 

تمہارے بعد مِری آنکھ ضد پہ آ گئی ہے 

وہی جمال وہی خد و خال چاہتی ہے 

ہم اس کے جبر کا قصہ تمام چاہتے ہیں 

اور اس کی تیغ ہمارا زوال چاہتی ہے 

ہری رُتوں کو ادھر کا پتہ نہیں معلوم 

برہنہ شاخ عبث دیکھ بھال چاہتی ہے


غالب ایاز

No comments:

Post a Comment