خیال و خواب کے دفتر، جگہ نہیں بنتی
کسی کی یاد ہے ازبر جگہ نہیں بنتی
نہ تیرے پاس سفارش ہے اور نہ پیسہ ہے
سو حکم یہ ہے کہ؛ جا گھر، جگہ نہیں بنتی
اسی لیے میں تِری بزم میں نہیں آتا
تِری جگہ کے برابر جگہ نہیں بنتی
اسی کے نام پہ اس دل کا انتقال ہے یار
سو اور کسی کی یہاں پر جگہ نہیں بنتی
یہ اس کھلاڑی کو کپتان منتخب کریں گے
کہ جس کی ٹیم کے اندر جگہ نہیں بنتی
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment