جس طرف دیکھیے بازار اُداسی کا ہے
شہر میں کون خریدار اداسی کا ہے
اب تو آنکھوں میں بھی آنسو نہیں آتے میرے
یہ الگ روپ مِرے یار اداسی کا ہے
روح بیچاری پریشاں ہے کہاں جائے اب
اس قدر جسم پہ اب بار اداسی کا ہے
اپنے ہونے کا گماں تک نہیں ہوتا مجھ کو
جانے یہ کون سا معیار اداسی کا ہے
اب یہ احساس ہمیشہ مجھے ہوتا ہے دوست
مجھ میں اک شخص طلب گار اداسی کا ہے
آئینہ دیکھ کے معلوم ہوا ہے مجھ کو
زخم چہرے پہ بھی اس بار اداسی کا ہے
یہ اداسی مجھے تنہا نہیں رہنے دیتی
ہاں تِرے بعد یہ اُپکار اداسی کا ہے
انعام عازمی
No comments:
Post a Comment