صفحات

Friday, 26 March 2021

کوئی چٹان نہ جیتے گی ایسے پتھر سے‎

 کوئی چٹان نہ جیتے گی ایسے پتھر سے‎

تمہارا قلب تو برتر ہے سنگِ مر مر سے‎

پڑی رہے گی مسیحائی تیری زنگ آلود‎

تِرا مریض لگا ہی رہے گا بستر سے‎

تجھے اسیر بنا کر ہی دم بھریں گے ہم‎

اناج اگا کے رہے گے زمینِ بنجر سے‎

وہ شخص اپنی مہک چھوڑ کر گیا ہے یہاں‎

ہم اس کے بعد نکلتے ہیں کم سے کم گھر سے‎

انہیں بساط سے بڑھ کر ہی چاہا جائے گا‎

ہمیشہ جام چھلکتا رہے گا ساغر سے‎

ہر ایک موج منانے کو دوڑتی آئی‎

کنارہ روٹھ کے بیٹھا تھا جب سمندر سے‎

ہمیں جو ایک زمانے کو دھول کہتے ہیں‎

کسی کے سامنے لگتے ہیں کتنے کم تر سے‎

ہیں آج چہرے اداس، آج سوگوار فضا‎

یہ دن نکال ہی دیجے شفق کیلنڈر سے‎


عائشہ شفق‎

No comments:

Post a Comment