صفحات

Thursday, 25 March 2021

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

 پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے

تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں

ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے

کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو

تیری چِٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے

تیری باتوں کو چھُپانا نہیں آتا مجھ سے

تُو نے خوشبو میرے لہجے میں بسا رکھی ہے

خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانو

خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اُڑا رکھی ہے​


اقبال اشہر

اقبال اشعر

No comments:

Post a Comment