صفحات

Friday, 26 March 2021

نالہ دل کمال کا نکلا

 نالۂ دل کمال کا نکلا

ان سے پہلو وصال کا نکلا

دل کی چوری کی فال کھولی تھی

نام اس مہ جمال کا نکلا

دے گئے وہ جواب صاف مجھے

یہ نتیجہ سوال کا نکلا

وہ خفا تھے یوں ہی کہ اے قاصد

کچھ سبب بھی ملال کا نکلا

دل لیا تیرا اے نسیم! اُس نے

گاہک اچھے ہی مال کا نکلا


نسیم بھرتپوری

No comments:

Post a Comment