صفحات

Friday, 26 March 2021

رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گا

 رفتہ رفتہ دلِ بے تاب ٹھہر جائے گا

رفتہ رفتہ تِری نظروں کا اثر جائے گا

داد بیداد کی اس میں کوئی تخصیص نہیں

نقشِ ہستی میں کوئی رنگ تو بھر جائے گا

آپ اگر مائل تجدیدِ ستم ہو جائیں

رنگِ تعلیمِ وفا اور نکھر جائے گا

ارضِ تشنہ پہ برس ابرِ رواں کھل کے برس

بات رہ جائے گی، یہ وقت گزر جائے گا

دھوپ اور چھاؤں مسلّم، مگر اپنی حد میں

وقت پابند نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

روشنی میں ہے چراغوں کے تلے تاریکی

ہم سمجھتے تھے کہ ماحول سنور جائے گا

عشق تو اپنی جگہ کیف مسلسل ہے عروج

نشۂ بادہ نہیں ہے جو اُتر جائے گا


عروج زیدی بدایونی

No comments:

Post a Comment