صفحات

Tuesday, 2 March 2021

تیری توہین بھلا کیسے گوارا کرتا

تیری توہین بھلا کیسے گوارا کرتا

مر نہ جاتا میں اگر تجھ سے کنارا کرتا

ایسی آشفتہ سری، سنگ طلب ہو جیسے

تُو شبِ ہجر جو آتا تو نظارا کرتا

بنتِ حوا جو نہ ہوتی تو یہ ابنِ آدم

آب و دانے پہ فقط کیسے گزارا کرتا

دوسرے عشق پہ قدغن تو نہیں پر مِرے یار

تجھ سا کوئی مجھے ملتا تو دوبارا کرتا

اتنی فرصت ہی کہاں مجھ کو میسر تھی کہ میں

اپنی قسمت کے خد و خال سنوارا کرتا

زندگی تو مجھے ہمرا ہ تو لے کر چلتی

دوست بن کر میں تِرے بوجھ اتارا کرتا

تُو نے اتنی بھی اجازت نہیں بخشی تھی مجھے

میں سرِ عام تِرا نام پکارا کرتا

اس کو منظور یہی تھا، جو بھی ہونا تھا ہوا

حاکمِ شہر مگر کچھ تو خدا را کرتا

عشق نے ہاتھ مِرے باندھے ہوئے تھے احمد

اپنے قاتل کی طرف کیسے اشارا کرتا


احمد ساقی 

No comments:

Post a Comment