صفحات

Friday, 26 March 2021

اپنی یہی پہچان یہی اپنا پتا ہے

 اپنی یہی پہچان، یہی اپنا پتا ہے

اک عمر سے یہ سر کسی چوکھٹ پہ جھُکا ہے

دروازہ نہیں، بیچ میں دیوار ہے اپنے

اور دستکِ دیوار سے در کم ہی کھُلا ہے

جب جب دل نازک پہ پڑی چوٹ کوئی بھی

کچھ دن تو دُھواں دل سے ہر اک لمحہ اُٹھا ہے

محسوس کریں سب ہی بیاں ہو نہ کسی سے

اس سادہ و معصوم میں کچھ ایسی ادا ہے

اب عالمِ فانی کی نئی شرحیں بھی سمجھو

جو کوئی نہ پڑھ پایا تھا وہ تم نے پڑھا ہے

یہ سبزہ و گُل، چاند، ستارے، یہ زمانہ

مِل جائے یہ سب بھی تو حقیقت میں یہ کیا ہے


قیصر خالد

No comments:

Post a Comment