صفحات

Thursday, 25 March 2021

صدیوں کے کہر میں بھی نہ جب باغباں ملے

 صدیوں کے کُہر میں بھی نہ جب باغباں ملے

بکھرے ہوئے وجود کو کیوں آشیاں ملے

جانے وہ آتشِ غمِ فرقت کو کیوں بھلا ؟

جس کو حصارِ دشت میں بھی سائباں ملے

نذرانہ اپنے شوق کا حاصل میں دے مجھے

مفقُود ہو گیا تو مجھے ملے کہاں ملے

یہ درد مجھ کو تیرے توسط سے ملا ہے

اب انتظار ہے کہ اسے بھی زباں ملے

اکثر وہ میرے کام پہ بد ظن رہا، مگر

مجھ بے اماں سے بارہا اس کو اماں ملے

وہ خواب دفن کر گیا سانسوں کی خاک میں

تعبیر کا جلا بھی گیا تن، دھواں ملے

سنبھلے ہوئے ہیں درد کے پاؤں وجود پر

یونس دلِ گداز کے یہ پاسباں ملے


یونس ڈار

No comments:

Post a Comment