صفحات

Tuesday, 2 March 2021

غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آ گیا

غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آ گیا

غم یہ ہے قاتلوں میں تیرا نام آ گیا

جگنو جلے بجھے میری پلکوں پہ صبح تک

جب بھی تیرا خیال سرِ شام آ گیا

محسوس کر رہا ہوں میں خوشبو کی بازگشت

شاید تیرے لبوں پہ میرا نام آ گیا

کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا

بے ساختہ لبوں پہ تیرا نام آ گیا

میں نے تو ایک لاش کی دی تھی خبر فراز

الٹا مجھ ہی پہ قتل کا الزام آ گیا


طاہر فراز 

No comments:

Post a Comment