صفحات

Monday, 1 March 2021

بے سکوں دل نگر ہے تو یوں ہی سہی

 بے سکوں دل نگر ہے تو یوں ہی سہی

وہ جفا گر اگر ہے تو یوں ہی سہی

دل شکن اس کی ہر اک ادا پہ اگر

یہ مِری آنکھ تر ہے تو یوں ہی سہی

یہ قدم میرا جس جا پہ رکنے لگا

اس کا وہ سنگِ در ہے تو یوں ہی سہی

میری رنگوں سے بھرپور یہ زندگی

کسی تتلی کا پر ہے تو یوں ہی سہی

میری قسمت کا ہر فیصلہ آج سے

اس کے زیرِ اثر ہے تو یوں ہی سہی

اس کے دل میں اگرچہ جگہ نہ ملے

اس کی نظروں میں گھر ہے تو یوں ہی سہی

زندگی سے نہیں ہے مجھے کچھ گِلہ

اور دُکھ ہم سفر ہے تو یوں ہی سہی


سمن شاہ

No comments:

Post a Comment