بے سکوں دل نگر ہے تو یوں ہی سہی
وہ جفا گر اگر ہے تو یوں ہی سہی
دل شکن اس کی ہر اک ادا پہ اگر
یہ مِری آنکھ تر ہے تو یوں ہی سہی
یہ قدم میرا جس جا پہ رکنے لگا
اس کا وہ سنگِ در ہے تو یوں ہی سہی
میری رنگوں سے بھرپور یہ زندگی
کسی تتلی کا پر ہے تو یوں ہی سہی
میری قسمت کا ہر فیصلہ آج سے
اس کے زیرِ اثر ہے تو یوں ہی سہی
اس کے دل میں اگرچہ جگہ نہ ملے
اس کی نظروں میں گھر ہے تو یوں ہی سہی
زندگی سے نہیں ہے مجھے کچھ گِلہ
اور دُکھ ہم سفر ہے تو یوں ہی سہی
سمن شاہ
No comments:
Post a Comment