صفحات

Tuesday, 2 March 2021

عجیب فیصلہ سازی ہوئی محبت میں

عجیب فیصلہ سازی ہوئی محبت میں

وہ آنکھ آنکھ نمازی ہوئی محبت میں

ہوا کے کیمرے کُھلنے لگے غروب کے بعد

یہ شام اور پیازی ہوئی محبت میں

خدا کا شکر ہے میں اس گلی کو بھول گیا

وہ سانس لینے پہ راضی ہوئی محبت میں

کوئی گلاب جسے بازیاب کر نہ سکے

کوئی کلی تھی جو ماضی ہوئی محبت میں

بڑے حساب سے اس نے ہمیں رکھا مصروف

یہ زندگی بھی ریاضی ہوئی محبت میں

جسے جہانوں سے، خود سے بچا کے رکھنا تھا

اسی سے دست درازی ہوئی محبت میں

تمہارے نام لکھی اور شام شام لکھی

الاٹ جو بھی اراضی ہوئی محبت میں

خدا نے روک لیا، اشتہا نے روک لیا

یہ چوٹ باسی نہ تازی ہوئی محبت میں

وہ خرقہ پوش غلط، جس کو اپنا ہوش نہ تھا

ہمیں سے تھی جو ایازی ہوئی محبت میں

وہ خود کو ہار گئی بے کہے سنے کچھ بھی

کنیز تاش کی بازی ہوئی محبت میں


عامر سہیل 

No comments:

Post a Comment