صفحات

Friday, 26 March 2021

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

 آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو

دیکھا نہیں رُخ کرتے جس طرف زمانے کو

جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو

یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر

سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو

اس کُنج طبیعت کی ممکن ہے ہوا بدلے

جھونکا کوئی آ جائے پتے ہی اڑانے کو

راضی نہ ہوا میں بھی مانوس مناظر پر

تیار نہ تھا وہ بھی کچھ اور دکھانے کو

جیسا کہ سمجھتے ہو ویسا تو نہیں کچھ بھی

یہ سارا تماشا ہے اک وہم مٹانے کو


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment