صفحات

Friday, 23 April 2021

اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو

 اگر وہ حادثہ پھر سے ہوا تو

میں تیرے عشق میں پھر پڑ گیا تو

کہ اس کا رُوٹھنا بھی لازمی ہے

منا لوں گا اگر ہو گا خفا تو

مِری اُلجھن سُلجھتی جا رہی ہے

دِکھایا ہے تمہی نے راستہ تو

یقیناً رازِ دل میں کھول دوں گا

دیا اپنا جو اس نے واسطہ تو

چلو کچھ دیر رو لیں ساتھ مل کر

کوئی لمحہ خوشی کا مِل گیا تو

تجھے محفوظ کر لوں ذہن و دل میں

مِلا ہے تو کہیں پھر کھو گیا تو

نیا رشتہ نبھانے کی طلب میں

اگر ٹُوٹا پرانا رابطہ تو

کلیجے سے لگا کر رکھتے ہم بھی

ہمیں وہ راز اپنے سونپتا تو

نظر تم زندگی سمجھے ہو جس کو

فقط پانی کا ہو وہ بُلبلہ تو


نذیر نظر

No comments:

Post a Comment