صفحات

Wednesday, 14 April 2021

ہاتھوں پہ رکھ کر خاک سا اڑا دوں تجھ کو

 ہاتھوں پہ رکھ کر خاک سا اڑا دوں تجھ کو

جی تو کرتا ہے میں بھی بھلا دوں تجھ کو

تو اتنا خوش نہ ہو میرا دل توڑ کر

تیرے ساتھ بھی یہی ہو گا میں بتا دوں تجھ کو

اک حسرت ہے کہ تو مجھے پھر سے ملے

لیکن اب کی بار میں دغا دوں تجھ کو

پہلے دل دیا اور پھر جاں بھی دے دی

میں اس سے زیادہ اور کیا دوں تجھ کو

تو یقیناً تھک جائے گا وار کرتے کرتے

میرے قاتل ٹھہر، میں آسرا دوں تجھ کو

مجھ سے فلکی ستاروں کی فرمائش نہ کر

وہ مانگ کہ جو میں لا دوں تجھ کو

مجھ میں مسیحائی کا فن نہیں ہے ورنہ

تو پتھر بھی تو پگھلا دوں تجھ کو

بہتر ہو گا تو بھی تحفے موڑ دے واپس

میں بھی سارے خط بھجوا دوں تجھ کو

رات پھر ایک نئی غزل کہی ہے میں نے

ہے دکھی، کہو تو سنا دوں تجھ کو


جاوید مہدی

No comments:

Post a Comment