صفحات

Sunday, 25 April 2021

مرے کوزہ گر مجھے مان دے

 مِرے کوزہ گر مجھے مان دے

مجھے اپنے ہاتھ سے جام دے

مِرے دل کی دھرتی پہ دھر قدم

مجھے تو حسین سا نام دے

مجھے اپنے عہد میں باندھ لے

مجھے صندلیں سا پیام دے

مجھے آئینوں میں سجا کے رکھ

مِرے نقش و پا کو دوام دے

مِرے ہاتھ پر تو حنا لگا

مجھے سرخ سرخ سی شام دے

مِرا ہاتھ تھام لے عرش تک

مجھے اپنے ساتھ یوں بام دے

مجھے اپنے دل کا مکیں بنا

مجھے اپنا دل تہِ دام دے

مجھے کہکشاں کا سراغ دے

مجھے لا کے ماہِ تمام دے


حرا زرین

No comments:

Post a Comment