صفحات

Sunday, 25 April 2021

آپ کو میں نے نگاہوں میں بسا رکھا ہے

 آپ کو میں نے نگاہوں میں بسا رکھا ہے

آئینہ چھوڑئیے، آئینے میں کیا رکھا ہے

چھاؤں میں جسم کی حسین وعدے کیے تھے تم نے

میں نے اس پیڑ کی شاخ کو ہرا رکھا ہے

بے تکلف وہ چلے آئیں ہمارے دل میں

ہم نے دروازۂ احساس کھُلا رکھا ہے

آؤ ہم یاد دلائیں تمہیں اپنے احسان

اپنے ماضی اگر تم نے بھُلا رکھا ہے

کشمکش میں ہوں کہ ارصال کروں یا نہ کروں

ایک خط ان کے لیے کب سے لکھا رکھا ہے

زندگی کے لیے کچھ کام ضروری ہیں حنا

میں نے لوگوں کو یہ احساس دِلا رکھا ہے


حنا تیموری

No comments:

Post a Comment