صفحات

Saturday, 3 April 2021

یہاں ماحول کچھ ایسا ہوا ہے

 یہاں ماحول کچھ ایسا ہُوا ہے

محبت لفظ تک رُسوا ہوا ہے

حکومت روشنی نے چھوڑ دی اب

تبھی ظُلمت! تِرا قبضہ ہوا ہے

ہماری جیت پکی ہو گئی تھی

ہمیں شک ہے کہیں دھوکا ہوا ہے

بڑھی ہے یوں تو مہنگائی وطن میں

لہو اپنا مگر سستا ہوا ہے

تِرا مرہم تجھے ہی ہو مبارک

کہ اس سے زخم اور گہرا ہوا ہے

تمہیں معلوم ہو حمزہ! تو بولو

نظامِ شہر کیوں بگڑا ہوا ہے؟


حمزہ بلال

No comments:

Post a Comment