صفحات

Thursday, 1 April 2021

ساکن کس قدر گراں گزری ہے

 ساکن کس قدر گِراں گُزری ہے

زندگی مسلسل امتحاں گزری ہے

اک یہی وجہ ہے بس جینے کی

کہ ابھی مکمل کہاں گزری ہے

میرے نام سے پُکارا گیا کسی کو

سامنے سے میری پہچان گزری ہے

رائیگانی ہے قاصد کے سامنے رونا

پوچھ جن پر میری جان گزری ہے

مانتا ہوں کہ کٹھن تھی تیرے بن

کب کہا کہ؛ بڑی آسان گزری ہے

بے کاریوں میں رہا مشغول کس قدر

بعد ازاں مرگ جانا، رائیگاں گزری ہے

اک طرف دل ہے دوسری طرف دماغ

اسی کشمکش کے درمیاں گزری ہے


کلیم ساکن

No comments:

Post a Comment