صفحات

Saturday, 3 April 2021

خود ہی رستے میں چن کے خار مرے

 خود ہی رستے میں چُن کے خار مِرے

اب نہ کر آبلے شمار مرے

اپنے کاجل کے ایک نقطے سے

بیٹھ کے زائچے سنوار مرے

ہے محبت کو ہجر بھی درکار

اے حبیبِ وفا شعار مرے

تیری موہوم سی ہنسی مونس

اور دکھ درد بے شمار مرے

میرے چہرے سے دھوکہ مت کھانا

ارد گرد آئینے ہزار مرے

میں کہیں پیار نہ سمجھ بیٹھوں

نام الٹے نہ یوں پکار مرے

قہقہے، اشک، خواب کچھ شکوے

ہیں تمہاری طرف ادھار مرے

ہے تِرا انتظار کس درجہ

بے قراری سے، اے قرار مرے

میں بھلا کیوں خزاں سے دھوکہ کروں

لوٹ جا قاصدِ بہار مرے


اکرام اعظم

No comments:

Post a Comment