ہو سکے تو رکھو سنبھال کے دُکھ
کیا کرو گے مِرے اچھال کے دکھ
رتی بھر بھی نہیں ملاوٹ کی
سارے دکھ ہیں مِرے حلال کے دکھ
گھر میں آئی ہے پھر یہ خوشحالی
میں نے بیچے ہیں ماہ و سال کے دکھ
اس کے میرے جدا ہیں رنج و غم
جیسے مغرب کے اور شمال کے دکھ
تیری حیرت بتا رہی ہے مجھے
تُو نے سمجھے نہیں سوال کے دکھ
یہ تماشہ تو یار ہونا تھا
لائے جو ہو مِرے نکال کے دکھ
اب کھُلا ہے کہ زندگی کیا ہے
ہجرتوں کے کبھی وصال کے دکھ
لو بھی دیتے ہیں یہ اندھیرے میں
تُو نے دیکھے نہیں اُجال کے دکھ
اختر ملک
No comments:
Post a Comment