صفحات

Saturday, 3 April 2021

مجھے لگ رہا ہے کہ جال آئے گا موت کا

 مجھے لگ رہا ہے کہ جال آئے گا موت کا

کسی روز تجھ کو خیال آئے گا موت کا

یہ بجا کہ تجھ پہ عروج ہے بڑا زندگی

تِری سلطنت پہ زوال آئے گا موت کا

تجھے مار دیں گی یہ موتیوں کی تجارتیں

انہیں کشتیوں پہ ہی مال آئے گا موت کا

کوئی تیرا اپنا بھی روٹھ جائے گا ایک دن

تِری آنکھ میں بھی ملال آئے گا موت کا

کہیں درمیان میں بحث ٹوٹے گی وقت کی

کہیں درمیاں میں سوال آئے گا موت کا


فرحت عباس شاہ 

No comments:

Post a Comment