صفحات

Thursday, 1 April 2021

جب سفر سے لوٹ کر آنے کی تیاری ہوئی

 جب سفر سے لوٹ کر آنے کی تیاری ہوئی

بے تعلق تھی جو شے وہ بھی بہت پیاری ہوئی

چار سانسیں تھیں مگر سینے کو بوجھل کر گئیں

دو قدم کی یہ مسافت کس قدر بھاری ہوئی

ایک منظر ہے کہ آنکھوں سے سرکتا ہی نہیں

ایک ساعت ہے کہ ساری عمر پر طاری ہوئی

اس طرح چالیں بدلتا ہوں بساطِ دہر پر

جیت لوں گا جس طرح یہ زندگی ہاری ہوئی

کِن طلسمی راستوں میں عمر کاٹی آفتاب

جس قدر آساں لگا اتنی ہی دُشواری ہوئی


آفتاب حسین

No comments:

Post a Comment