صفحات

Friday, 16 April 2021

رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے

 رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے

تم نے پاس آنے میں کتنی دیر کر دی ہے

مسکراتے رہنا تو زندگی کا حاصل ہے

ہم نے مسکرانے میں کتنی دیر کر دی ہے

میں تمہاری اپنی تھی میں تمہاری اپنی ہوں

تم نے حق جتانے میں کتنی دیر کر دی ہے

بے قرار رہتا ہے دل تِری محبت میں

دل نے یہ بتانے میں کتنی دیر کر دی ہے

در بدر بھٹکنے سے اب سمجھ میں آیا ہے

اس کے در پہ جانے میں کتنی دیر کر دی ہے

اشک بار آنکھیں ہیں سوچتی یہ رہتی ہوں

حالِ دل سُنانے میں کتنی دیر کر دی ہے

سامنے پڑے گھنگھرو اب کنول یہ کہتے ہیں

یار کو منانے میں کتنی دیر کر دی ہے


ریحانہ کنول

No comments:

Post a Comment