رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے
تم نے پاس آنے میں کتنی دیر کر دی ہے
مسکراتے رہنا تو زندگی کا حاصل ہے
ہم نے مسکرانے میں کتنی دیر کر دی ہے
میں تمہاری اپنی تھی میں تمہاری اپنی ہوں
تم نے حق جتانے میں کتنی دیر کر دی ہے
بے قرار رہتا ہے دل تِری محبت میں
دل نے یہ بتانے میں کتنی دیر کر دی ہے
در بدر بھٹکنے سے اب سمجھ میں آیا ہے
اس کے در پہ جانے میں کتنی دیر کر دی ہے
اشک بار آنکھیں ہیں سوچتی یہ رہتی ہوں
حالِ دل سُنانے میں کتنی دیر کر دی ہے
سامنے پڑے گھنگھرو اب کنول یہ کہتے ہیں
یار کو منانے میں کتنی دیر کر دی ہے
ریحانہ کنول
No comments:
Post a Comment