صفحات

Saturday, 3 April 2021

ہماری ماؤں کو کیا پتہ تھا

 ہماری ماؤں کو کیا پتہ تھا کہ ان کے بچے

کسی چوراہے پہ لاش بن کر کھڑے رہیں گے

وہ ہنستی گاتی کلام کرتی اُداس لاشیں

کہ جن کے چہروں پہ پھیلی زردی 

ہزار میٹر کے فاصلے سے دکھائی دے گی 

اداس آنکھیں جو بُجھ چکی ہیں وہ گہری راتوں

کے سیاہ لمحوں میں جاگتی ہوں گی 

ہماری ماؤں کو کیا پتہ تھا

ہماری ماؤں کو کیا پتہ تھا 

کہ جن کو اکثر وہ کہتی رہتیں 

'حیاتی ہووے' 

حیاتی ان پہ عذاب بن کر گزر رہی ہے

ہر ایک خواہش ہماری آنکھوں کے سامنے مر رہی ہے 


عثمان نیاز

No comments:

Post a Comment