صفحات

Thursday, 1 April 2021

کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے

 کسی نظر نے مجھے جام پر لگایا ہوا ہے

سو کرتا رہتا ہوں جس کام پر لگایا ہوا ہے

غلط پڑے نہ کہیں پہلا ہی قدم یہ ہمارا

کہ ہم نے آنکھ کو انجام پر لگایا ہوا ہے

تمام شہر مشرف بہ کُفر ہو کے رہے گا

یہ جس قماش کے اسلام پر لگایا ہوا ہے

لگا رکھے ہیں ہزاروں ہی اپنے کام پر اس نے

ہمیں بھی کوششِ ناکام پر لگایا ہوا ہے

پلاتا رہتا ہوں دن رات اپنی آنکھ سے پانی

شجر یہ دل میں تِرے نام پر لگایا ہوا ہے

وہ اور ہوں گے جو آرام سے گزار رہے ہیں

ہمیں تو اس نے کہیں لام پر لگایا ہوا ہے


آفتاب حسین

No comments:

Post a Comment