صفحات

Wednesday, 5 May 2021

یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے

 یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے

کوئی بھی عمر جوانی سے مختلف نہیں ہے

میں ایک حال میں رہتا ہوں، وہ ملے نہ ملے

کہ میری پیاس بھی پانی سے مختلف نہیں ہے

کسا ہوا ہے، کھلے گا ضرور، میری سنو

کہ اس کا جسم کمانی سے مختلف نہیں ہے

ابھی تو ہونٹ ہی دیکھے ہیں اور یہ حالت ہے

غزل کا مطلع بھی ثانی سے مختلف نہیں ہے

یہ عشق دریا ہے اس میں سنبھل سنبھل کے اتر

سکون اس کا روانی سے مختلف نہیں ہے


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment