یہ واردات پرانی سے مختلف نہیں ہے
کوئی بھی عمر جوانی سے مختلف نہیں ہے
میں ایک حال میں رہتا ہوں، وہ ملے نہ ملے
کہ میری پیاس بھی پانی سے مختلف نہیں ہے
کسا ہوا ہے، کھلے گا ضرور، میری سنو
کہ اس کا جسم کمانی سے مختلف نہیں ہے
ابھی تو ہونٹ ہی دیکھے ہیں اور یہ حالت ہے
غزل کا مطلع بھی ثانی سے مختلف نہیں ہے
یہ عشق دریا ہے اس میں سنبھل سنبھل کے اتر
سکون اس کا روانی سے مختلف نہیں ہے
ریاض ساغر
No comments:
Post a Comment