صفحات

Thursday, 20 May 2021

اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی

اپنوں سے کوئی بات چھپائی نہیں جاتی

غیروں کو کبھی دل کی بتائی نہیں جاتی

لگ جاتی ہے غلطی سے کبھی آگ ولیکن

نا دیدہ و دانستہ بجھائی نہیں جاتی

تعلیم سکھاتی نہیں عالم کو سلیقہ

تہذیب تو جاہل کو سکھائی نہیں جاتی

رخ گرچہ ہواؤں کا موافق بھی ہو پھر بھی

طوفان میں قندیل جلائی نہیں جاتی

سیدھی سی ہے یہ بات میاں ایسے مسلسل

رونے سے مقدر کی برائی نہیں جاتی

اے صاحب تدبیر! اشاروں سے تو ہرگز

دیوار کراہت کی گرائی نہیں جاتی

مظلوم کے بہتے ہوئے پُر جوش لہو سے

تصویر محبت کی بنائی نہیں جاتی

ابرار سمجھتے نہیں آسان ہے بالکل

مشکل میں پڑی جان چھڑائی نہیں جاتی


خالد ابرار

No comments:

Post a Comment