صفحات

Thursday, 20 May 2021

محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے

 محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے

ہمارے جینے کی بس اک یہی اساس بھی ہے

کبھی تو قُرب سے بھی فاصلے نہیں مٹتے

گو ایک عمر سے وہ شخص میرے پاس بھی ہے

کسی کے آنے کا موسم کسی کے جانے کا

یہ دل کہ خوش بھی ہے لیکن بہت اداس بھی ہے

بدن کے شہر میں آباد اک درندہ ہے

اگرچہ دیکھنے میں کتنا خوش لباس بھی ہے

یہ جانتے ہیں کہ سب تھک کے گر پڑیں گے کہیں

شکستہ لوگوں میں جینے کی کتنی آس بھی ہے

وہ اس کا اپنا ہی انداز ہے بیاں کا امان

ہر ایک حکم پہ کہتا ہے التماس بھی ہے


اختر امان

No comments:

Post a Comment