چاند جلتا رہا
جانے کیا بات تھی کچھ عجب رات تھی
چاند بھی ماند تھا، بھیگی بھیگی ہوائیں بھی کچھ اور تھیں
اور تاروں بھرے آسماں کے تلے سرد شب کی ادائیں بھی کچھ اور تھیں
آج پھر بے کلی اپنے جوبن پہ تھی
درد بڑھتا رہا، چاند جلتا رہا
اور میں لکھتا رہا رات بھر
خال و خد تیرے آنکھوں میں ٹھہرے رہے
میرے دل پہ مگر ایک گہری اداسی کے پہرے رہے
ایک آدھی ادھوری سی تصویر تھی
رنگ سانچوں میں چپ چاپ ڈھلتے گئے
نقش بنتے گئے دل سلگتا رہا
اور میں لکھتا رہا رات بھر
اور وہ بتی کی دھیمی سی، پیلی لرزتی ہوئی روشنی
وہی کچی دیواروں پہ بنتے بگڑتے ہوئے سے عجب زاویے
لکڑی کی چرچراتی، پرانی سی دیمک زدہ کھڑکیاں
شب کے پچھلے پہر ان پہ بجتی ہواؤں کی وہ ٹھنڈی ٹھار انگلیاں
دور بجتے ہوئے اجنبی گیت کی غمزدہ مُرکیاں
سرد بُکل میں لپٹی ہوائیں وہی
اور برفاب موسم کی ساری ادائیں وہی
سارا منظر وہی، سارے منظر میں لیکن کہیں ہم نہیں
شب گزرتی رہی چاندنی دم بخود، چاند جلتا رہا
اور میں لکھتا رہا رات بھر
ساحر حسیب
No comments:
Post a Comment